افغانستان میں امریکا کی فوجی حکمت عملی نا کام ہو چکی ہے ،فوجی کمان کی بجائے پالیسی بدلے۔پروفیسر ساجد میر امریکا افغان جنگ پاکستان میں لانا چا ہتا ہے تاکہ پاکستان کی عسکری قوت کو کمزور کیا جائے۔خطبہ جمعہ کے اجتماع سے خطاب
لاہور (25جون2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکا کی فوجی حکمت عملی نا کام ہو چکی ہے اسے فوجی کمان کی بجائے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی ۔امریکی فوج کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل نے افغانستان سے بھاگنے کے لئے اوباما انتظامیہ پر تنقید کا ڈرامہ رچایا۔امریکہ افغان جنگ ہارچکا ہے۔اسے بہت جلد خطے سے انخلاءکا فیصلہ کرنا پڑے گا۔جنرل پیٹریاس بھی ناکام ہو ں گے۔ جامعہ ابراہیمیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسکی اتحادی افواج کو طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور گزشتہ نو سال سے جنہیں ختم نہیں کیا جاسکا، بلکہ وہ تقویت پکڑ رہے ہیں۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں پاکستان کے لئے رکا ہوا ہے وہ اپنے مکروہ عزائم کی راہ میں پاکستان کو رکاوٹ سمجھتا ہے، پاک فوج ہماری ایٹمی صلاحیت اسے برداشت نہیں اس مقصد کے لئے اس نے انڈیا کو اپنے ساتھ ملارکھا ہے۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ان سازشوں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔وہ افغان جنگ پاکستان میں لانا چا ہتا ہے تاکہ پاکستان کی عسکری قوت کمزور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو عملہََ خانہ جنگی میں مبتلا کررکھا ہے۔ لہذا فراست کا تقاضا ہے کہ حکومت امریکی چال کو سمجھ کر دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جعلی جنگ کے جال سے نکلنے کا فوری فیصلہ کرے۔