کرسی کے لالچ میں عالم اسلام حکمرانوں نے ناموس رسالتﷺ پر سمجھوتہ کرلیا ہے۔ پروفیسر ساجد میر
لاہور ( 29جون2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے لئے اہل حدیث کا بچہ بچہ کٹ مرنے کے لئے تیار ہے۔اہانت رسول ﷺ اصلی دہشت گردی ہے ، اس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے عالم اسلام کے حکمرانوں نے ناموس رسالتﷺ کے مسئلے پر بزدلانہ کردار ادا کیا۔ حکومت پاکستان نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر محبان رسولﷺ کے جذبات کی ترجمانی نہیں کی۔ اہل مغرب حضور ﷺ کی ناموس سے ناواقف ہے، ہم نے سیرت ﷺ کا پیغام مغرب تک صحیح انداز سے نہیں پہنچایا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ ورکاں میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جسکے میزبان حافظ عثمان شاکر تھے۔ قبل ازیں پروفیسر ساجد میر کی قیادت میںتحفظ ناموس رسالت ریلی سادھوکی، کامونکی اور تتلے عالی سے ہوتے ہوئے نوشہرہ ورکاں پہنچی، جس میں سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔ انکے ہمراہ، پروفیسر عبدالستار حامد، مولنا حنیف ربانی، مولنا اسحق نوشہروی، مولنا نواز چیمہ، مولنا منظور احمد،مولنا سید مصطفے شاہ، مولانا ادریس گوہڑوی، مولنا ضیاءاللہ یوسف، حافظ بابر فاروق و مولنا عبدالرشید ظہیر مولنا داﺅد اسماعیل شاہ دیگر بھی تھے۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ایک عرصے سے اسلام اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا جارہا ہے کبھی مینا ر بنانے اور حجاب پر پابندی لگائی جاتی ہے، یہ اظہار رائے کی آزادی کے دعوے کی نفی ہے، افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈرکی تنقید برادشت نہیں کی ۔ مگر جو ساری کائنات کے مقدس ہیں جو خاتم النبینﷺ ہیں ان پر گستاخانہ حملے کرنے والوں کا جرم کوئی جرم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسی کے لالچ میں حکمرانوں نے ناموس رسالتﷺ پر سمجھوتہ کرلیا ہے۔ مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور بے غیرتی کے باعث کل قیامت کو آنحضورﷺ انکے خلاف استغاثہ دائر کریں گے کل کو یہ نبی ﷺ کے سامنے کیا چہرہ لے کر جائیں گے۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی یہ تحریک جاری رہے گی۔