مساجد، امام بارگاہوں اور مزاروں پر حملے بھارت کروارہا ہے ، انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ،ساجد میر ، حافظ عبدالکریم، مولنا معین الدین لکھوی، علامہ زبیر احمد ظہیر، حاجی عبدالرزاق، میاں نعیم الرحمان طاہر، ڈاکٹر ریا ض الرحمن یزدانی، ڈاکٹر عظیم الدین زاہد ، علامہ محمد شفیق خاں، پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی کی طرف سے بھی لاہور دھماکوں کی مذمت
لاہور (2 جولائی2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں اور مزاروں پر حملے بھارت کروارہا ہے ، انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اسلام اور پاکستان کے دشمن اکٹھے ہوگئے، ہمیں بھی اکٹھے ہو جانا چا ہیے۔ جامعہ ابراہیمیہ میں جمعہ کے اجتما ع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت علی ہجویری رحمة اللہ علیہ کے مزار پر حملہ کرنے والوں نے اسلام اور پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ وہ دنیا میں ہماری بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اسلام کا چہرہ مسخ کیا جارہا ہے۔ حکومت کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھانا ہو ں گے۔ محض زبانی جمع خرچ کا وقت گز ر چکا ہے۔ کوئی بھی مسلک دہشت گرد عناصر سے محفوظ نہیں رہا۔ دیوبندی، اہل حدیث، شیعہ، جماعت اسلامی، قادیانی گروہ سمیت لسانی تنظیموں کے لوگ بھی ان کا نشانہ بنے ہیں۔ لہذا ان کا روائیوں کو کسی ایک مسلک یا گروہ کی طرف منسوب کرنا مناسب نہیں ہے۔ حکومت ان واقعات کی عدالتی تحقیقات کروائے۔ اور ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کا واقعہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت کو کرسی کے تحفظ کی جنگ سے وقت نکال کر عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے بھی سوچنا ہو گا۔ ملک میں فرقہ وارانہ خانہ جنگی کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ دشمن بھی یہی چاہتا ہے مگر تما م مسالک کے اکابرین کو اپنے اصلی دشمن کا پہنچاننے کے لئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا۔ دریں اثناءمرکزی ناظم اعلی حافظ عبدالکریم، مولنا معین الدین لکھوی، علامہ زبیر احمد ظہیر، حاجی عبدالرزاق، میاں نعیم الرحمان طاہر، ڈاکٹر ریا ض الرحمن یزدانی، ڈاکٹر عظیم الدین زاہد ، علامہ محمد شفیق خاں، پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی نے بھی دربا ر پر ہونے والے دھما کوں کی شدید مذمت کی ۔