سانحہ لاہور کو مسالک کی لڑائی قرار دینے والے علماءغیر دانشمندانہ بیانات سے دشمن کا ایجنڈا پورا کررہے ہیں
لاہور ( 3جولائی2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ سانحہ لاہور قابل مذمت ہے،اسے مسالک کی لڑائی قراردینے والے علماءدانشمندی کا مظاہرہ نہیں کررہے، ایسے بیانات نہ دیے جائیں جس سے ملک دشمن قوتوں کو تقویت ملے، دشمن فرقہ ورانہ فسادات کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے ، دہشت گردوں نے بلاتفریق تما م مسالک کے علماءکو نشانہ بنایا ، یہ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ ہمیں متحد ہوکر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مرکز اہل حدیث میں علماءکے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کو امریکہ نے پیدا کیا ، پرویز مشرف اور آصف علی زرداری نے اس لعنت کو فروغ دیا۔اگر حکومت اس جنگ میں فتح چاہتی ہے تو اسے دہشت گردی کی جنگ سے خود کو امریکہ سے الگ ہونا پڑے گا، ڈرون حملے روکنا ہونگے۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سانحہ لاہور پر پنجاب حکومت کے غم میں شریک ہونے کی بجائے اسے تنقید کا نشانہ بنا کر غیر سنجیدگی دکھائی، پشاور اور کراچی میں اس طرح کے واقعات کے بعد کسی وفاقی وزیر نے کسی صوبائی وزیر اعلی سے استعفے نہیں مانگا ۔مگر لاہور میں ایک واقعہ ہوا تو وزیر اعلی سے و فاقی وزیر قانون نے فورا استعفے مانگ لیا۔ ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کی وجہ سے ہمیں سیاسی بلیم گیم میں نہیں پڑنا چاہئے۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ کے اس بیان کی تائید کی کہ سانحہ لاہور کسی تیسر ی طاقت نے کیا ہے اس میں کوئی مسلک یا جماعت ملوث نہیں ہے۔