ملک میں امریکی خفیہ اداروں کا عمل دخل رک جائے تو دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے،پروفیسر ساجد میر
لاہور ( 4جولائی2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ ملک میں امریکی خفیہ اداروں کا عمل دخل رک جائے تو دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے، انٹیلی جنس ادارے قوم کو بتائیں کہ دہشت گردوں کو اسلحہ اور پیسہ کون دے رہا ہے۔ پرویز مشرف کی پالیسیوں کو تسلسل بخشنے کے نتائج قوم کو بھگتنا پڑرہے ہیں۔پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خاتمے کی متفقہ قرارداد پر عمل درآمد ہوتا تو آج قومی کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت نہ پڑتی، دہشت گرد ی کی جنگ دعووں اور بڑھکوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے جیتنا ہو گی اور اس مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔ امریکہ اور نیٹو افواج کی طرح ہمیں بھی طالبان سے مزاکرات کے دروازے کھلے رکھنا ہوں گے۔ مرکزاہل حدیث میں سیاسی کمیٹی کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحہ لاہور کو فرقہ وارانہ مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ،بعض جماعتیں اس واقعہ کی آڑ میں اپنے مسا لک کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں، انہیں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ لاہور انتہائی قابل مذمت ہے۔ کوئی بھی اسلام پسند اور محب وطن اس کی حمائت نہیں کرسکتا۔ پوری قوم کی طرح اہل حدیث بھی اس کی مذمت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو مدد دینے والے ہاتھ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت، خصوصا امریکہ اور بھارت افغانستان کے زریعے ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ اور اسی راستے سے دہشت گرد داخل ہورہے ہیں۔ اس صورتحا ل کو کنٹرول کرنے کے لیے ہمیں امریکی ایجنسیوں کی بجائے اپنی ایجنسیوں کی خدامت لینی چاہیے۔ امریکی ڈرون حملوں کے فوری خاتمے کے لئے حکومت کو امریکہ سے دوٹوک بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے کسی عہدیدار کو یہ توفیق نہیں ہورہی کہ وہ امریکہ اور بھارت کانام لیں، دہشت گردی کی جنگ کو سیاسی جنگ میں بدلنے والے سیاستدان احمق ہیں، ملکی سلا متی خطرے میں پڑی ہوئی ہے اور انہیں اپنے اقتدار اور کرسی کی فکر لگی ہوئی ہے۔ حکمرانوں نے قوم کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ وفد کی قیادت ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی کررہے تھے۔