جنوبی پنجاب میں آپریشن کے بھیانک نتائج نکلیں گے اور یہ امریکی خواہش پوری کرنے کے مترادف ہوگا۔ حافظ عبدالکریم
لاہور ( 5جولائی2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں آپریشن کے بھیانک نتائج نکلیں گے اور یہ امریکی خواہش پوری کرنے کے مترادف ہوگا۔کراچی میں روز درجنوں لوگ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اسلام آباد میں درجنوں دہشت گردی کے واقعات ہوئے مگر سارا زور جنوبی پنجاب پر لگایا جارہا ہے، سانحہ لاہور کرانے والوں کی سازش ہے کہ پنجاب بھی مالا کنڈ اور وزیر ستان بن جائے پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے محض چند جذباتی اور فرقہ پرست علماءکے دباﺅ میں آنے کی بجائے حقیقی دشمن کی چالوں کو سمجھے۔دہشت گردی کا حل مزید دہشت گردی نہیں ہے۔ مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ امریکہ ،بھارت اور اسرائیل افغانستان کے راستے اپنے ایجنٹ پاکستان میں داخل کرچکا ہے جن کے پاس جدید اسلحہ اور پیسے ہیں۔ کوئی بھی محب وطن پاکستانی اپنے وطن کو لہو سے رنگ نہیں سکتا،اس سے بڑھ کر ان واقعات میں بیرونی ہاتھ کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مسجد، امام بارگاہ، اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو بلاتفریق نشانہ بنایا جارہا ہے، علامہ احسان الہی ظہیر ،علامہ عارف حسینی،مولنا اعظم طارق، مفتی شامزئی، سنی تحریک ،جماعت اسلا می، جمعیت علماءاسلام سمیت دیگر جماعتوں کے جید علماء دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں، دشمن ملک میں فرقہ واریت کی آگ لگانا چاہتا ہے۔ تما م مکاتب فکر کے علماءکو اس مسئلہ پر سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔ اور جو قوتیں پہلے شیعہ سنی تصادم کرارہی تھیں اب وہ بریلوی دیوبندی تصادم کی راہ ہموار کررہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ لاہور انتہائی قابل مذمت حرکت تھی جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس واقعہ کی آڑ میں بعض ناعاقبت اندیش لوگ فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں ،انہیں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پنجاب حکومت کو بھی ہوشمندی کے ساتھ معالے کو حل کرنا چاہیے۔ جلد بازی میں جنوبی پنجاب میں کسی بھی قسم کے آپریشن کی غلطی نہ کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے اگر جھنگ میں کسی کالعدم تنظیم کی حمایت کی تھی تو کیا میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی مرضی کے خلاف کی تھی۔ ہم فرقہ وارانہ بغض اورعناد کی وجہ سے کسی ایک فرقہ اور جماعت کی خواہش پر کسی بھی وزیر یا مشیر کی برطرفی کے حق میں نہیں۔ردعمل میں کل کو وفاقی وزیر مذہبی امور کی برطرفی کا بھی مطالبہ سامنے آسکتا ہے۔ لہذا یہ سلسلہ مناسب نہیں، شدت پسندی اور دہشت گردی کی لعنت سے جان چھڑانے کے لیے مرکز کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی