بے گناہ نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالنے سے امن قائم نہیں ہو سکتا ،حافظ عبدالکریم
لاہور ( 12 جولائی 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی حافظ عبدالکریم نے کہا ہے کہ پنجاب میں مذہبی کارکنوں کے خلاف آپریشن اور پکڑ دھکڑ سے حالات ٹھیک ہونے کی بجائے خراب ہوں گے ، فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی گرفتاریوں سے کارکنوں میں اشتعال پیدا ہورہا ہے ۔ ملک دہشت گردی کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کا متحمل نہیں ہو سکتا، حکومت غیرملکی ہاتھ بے نقاب کرے، اس آپریشن کے منفی نتاےج نکلیں گے۔ مرکز اہل حدیث میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں، جو حکومت کو اپنی انگلیوں پر نچا رہی ہیں۔ انکی خواہش ہے کہ یہاں تصادم ہو۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ گھروں میں بیٹھے نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالنے سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بلیک واٹر کے لوگ دندناتے پھر رہے ہیں۔ انہیں حکومت نے تخریب کاری کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ لاہور کی بنیاد پر حکومت پنجاب ایک مکتبہ فکر کو خوش کرنے کے لئے تعصب پر مبنی اقدامات کررہی ہے۔ جس سے دوسرے مسالک کے لوگوں میں محرومی کا احساس پیدا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ا یک عرصے سے پنجا ب پر نظریں جمی ہوئی تھیں۔ ایک سازش کے تحت لاہور میں حضرت علی ہجویری رحمة اللہ علیہ کے مزار پر دھماکے کرائے گئے تاکہ پنجاب میں کارروائی کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ چنانچہ حکومت نے اغیار کی خوشنودی کے لیے آپریشن شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1987 میں بھی میاں شہباز شریف وزیراعلی تھے جب ہمارے قائد علامہ احسان الہی ظہیر شہید کو انکے دس ساتھیوں سمیت شہید کردیا گیا تھا۔ ان کے قاتلوں کو تو حکومت نے گرفتار کیا تھا اور نہ کوئی آپریشن کیا تھا۔ اسی طرح دیوبند علماءخصوصا سپاہ صحابہ رضی اللہ عنہ کی قیادت بھی دہشت گردی کا شکار ہوئی مگر کسی کے خلاف آپریشن نہیں کیا گیا۔