مشرف نے مسئلہ کشمیر سرد خانے میں ڈال دیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسے دفن کرکے رکھ دیا ہے،پروفیسر ساجد میر
برمنگھم( 16جولائی 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ نے کشمیرکی آزادی کے لیے لڑنے والوں کو ’مداخلت کار‘ تسلیم کرکے بھارتی موقف کی تائیداور مجاہدین کی جدوجہدآزادی کی توہین کی ہے۔ پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر سرد خانے میں ڈال دیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسے دفن کرکے رکھ دیا ہے۔افغانستان اور کشمیر کے تنازعات کے حوالے سے حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے، امریکی خواہاشات پر دونوں ممالک کے حکام محض فوٹو سیشن کے جمع ہوتے ہیں نیتیں کسی کی بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ وہ برمنگھم کی مرکزی مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں اعتماد سازی اس وقت تک فروغ نہیں پاسکتی جب تک متنازعہ مسائل کو بنیادی حیثیت نہیں مل جاتی۔ کشمیر اور پانی کا تنازعہ تو دور کی بات حکومت نئے بھارتی مطالبات اور مداخلت کاری کے الزامات کا بھی صحیح طور پر سامنا نہیں کرسکی۔موجودہ حکمرانوں کو اپنے اقتدار کے تحفظ کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں ہے، داخلی مسائل میں اس قدر الجھی ہوئی حکومت بیرونی محاز پر کیا لڑے گی۔ حکومت نے ممبئی حملوں کے واقعات پر بھارتی دباﺅ قبول کرلیا ہے، اور بھارت کی اس خواہش کو بھی پورا کردیا ہے کہ اس نے کشمیریوں کی تحریک کا حصہ بننے والوں کو پاکستان کی زبان سے ’گھس بیٹھیے ‘ تسلیم کروالیا ہے۔ انہوں نے کہا کہاقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے حکومت سفارتی کو ششوں کو بروئے کار لائے اور امریکہ کے اتحادی ہونے کی حیثیت سے اس کے زریعے دباﺅ ڈلوائے آخر اس کی خوشنودی کے لیے جانی ومالی قربانیاں دی جارہی ہیں۔