امریکہ کو دینی جماعتوں کے سوا کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے،سینیٹر پروفیسر ساجد میر
لاہور ( 23 جو لائی 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کی بحالی سیاسی اور انتخابی اتحاد کے بجائے ملکی سلامتی اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے ہونی چاہیے، عالمی طاقتیں دینی جماعتوں کے اتحاد کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں اور انکی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں اقتدار کے حصول کی باہمی جنگ میں الجھا یا جائے۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام(ف) باہمی لڑائی نے ایم ایم اے کا شیرازہ بکھیرا ،انہیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چا ہیے۔ امریکہ کو دینی جماعتوں کے سوا کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے، دینی جماعتوں کی بقا انکے اتحاد میں مضمر ہے وگرنہ آنے والے حالات بہت خطرناک دکھائی دے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بریڈ فورڈ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اسلام کی عالمگیریت کی وجہ سے طاغوتی طاقتیں خوف زدہ ہیں اور جتنی تیزی سے لوگ اسلام قبول کررہے ہیں یہ اسکی حقانیت کی دلیل ہے۔ امت مسلمہ قرآن وسنت کے قریب آرہی ہیں اور اسلام کے پیغام توحید کو سمجھ رہی ہے۔ اللہ تعالی کے سوا جتنے بھی سہارے ہیں وہ کمزور اور بے بس ہیں۔ آج ہماری زلت مسکنت کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا للہ تعالی کی وحدانیت، الوہیت اور ربوبیت پر ایمان کمزور ہوچکا ہے۔ مغرب اسلامی تہذیب اور ہمارے خاندانی سسٹم کو تباہ کرنے کے لیے بے حیائی اور فحاشی کو پھیلا رہا ہے۔ اور اسلامی اقدار کو مسلم حکمرانوں کے زریعے مسخ کروایا جارہا ہے۔ عالم اسلام کے حکمران امریکہ کو اپنا اما م تسلیم کر چکے ہیں ۔ انکی آرزوئیں کعبة اللہ کی بجائے واشنگٹن سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام امن کے پیامبر ہیں بدامنی اوردہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اسلام کے نظام عدل کو اپنانا ہوگا۔ دنیا میں جہاں بھی بدامنی ہے اسکی بنیاد ظلم ہے وہ کشمیر میں ہو یا افغانستان میں فلسطین میں ہو یا پاکستان میں ا س لئے عالمی طاقتوں کو ظلم کے خاتمے کے لئے انسانی آزادیوں اورانکے بنیادی حقوق پوراے کرنا ہوں گے۔ کشمیر ،افغانستا ن اور فلسطین کا مسئلہ حل نہ ہوا تو دنیا میں امن قائم نہیں ہوگا