دنیا کے لیے خطرہ لشکر طیبہ ہے اور نہ القاعدہ اصل خطرہ کشمیر، افغانستان، عراق اور فلسطین میں ظلم ڈھانے والے طاغوت سے ہے۔ ،امریکہ ہمیں مت دینے کی بجائے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے ، اسامہ کی آڑ میں پاکستان کا گھیرا تنگ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، حکومت کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ سینیٹرپروفیسر ساجد میر
لاہور( 25 جولائی 2010) مرکزی جمعیت اہل حدیث کے پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ دنیا کے لیے خطرہ لشکر طیبہ ہے اور نہ القاعدہ بلکہ اصل خطرہ وہ طاغوت ہے جو کشمیر، افغانستان، عراق اور فلسطین میں ظلم ڈھا رہا ہے ۔ کیا ڈرون حملے القاعدہ یا لشکر طیبہ کررہا ہے ،سب جانتے ہیں کہ افغانستان اور عراق کو کھنڈر میں تبدیل کو ن کررہا ہے۔امریکہ ہمیں مت دینے کی بجائے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے ،8 سال میں افغانستان میں امریکہ طالبان کو شکست نہ دینے کا غصہ پاکستان پر نکال رہا ہے اور اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کا واویلہ مچا کر اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کرنے کا جواز تلاش کررہا ہے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے بر طانیہ کے دورے سے واپسی پر اسلام آباد ائیر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی نظریں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر جمی ہوئی ہیں۔افغان جنگ اب وہ پاکستان میں لڑنا چا ہتا ہے۔ لشکر طیبہ پر پاکستان میں پابندی ہے اگر وہ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کا ساتھ دیتی ہے تو امریکہ کو کیا تکلیف ہے۔ جہاں تک اسا مہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا تعلق ہے تو یہ بے بنیاد مفروضہ ہے۔ اسامہ کی آڑ میں پاکستان کا گھیرا تنگ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ حکومت پاکستان نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرر کھی ہیں۔ اور کسی حکومتی ادارے یا ذمہ دار نے اس الزام کا ابھی تک جواب نہیں دیا۔ اور بے غیرتی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ انہوں نے امریکی فوج کے سربراہ ایڈ مرل مائک مولن کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات پر گہری تشویش کاااظہار کیا ہے ، حکومت کو اس پر اپنا ردعمل دینا چاہیے۔ دریں اثناءانہوں نے خیبر پی کے صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کے بیٹے کے قتل پر افسو س کا اظہار کیا۔ اور مسلم لیگ ن کے راہنماءجاوید ہاشمی کی صحت یابی کی دعا کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پروفیسر ساجد میرنے اپنے کارکنوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے کاموں میں حصہ لینے کی بھی ہدایت کی ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے اپنی پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس 29 جولائی کو لاہور میں طلب کرلیا ہے۔