جنرل کیانی کواپنی توسیع سے رضا کارانہ طور دستبردای کا اعلان کرکے تاریخی مثال قائم کرنی چاہیے۔ سینیٹر پروفیسر ساجد میر
لاہور ( 29جولائی2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے قراردیا ہے کہ جنرل کیانی کی ملک کے لیے خدمات بجا ،تاہم انکی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ اصولی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔اس فیصلے کے جمہوریت پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ جنرل کیانی کواپنی توسیع سے رضا کارانہ طور دستبردای کا اعلان کرکے تاریخی مثال قائم کرنی چاہیے۔ ماضی میں ایکسٹینشن والے جرنیلوں نے جمہوریت پر شب خون مارا ، توسیع کے فیصلے سے ترقی کے منتظر جرنیلوں کا حق بھی مارا گیا۔امریکہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کو ٹارگٹ بناکر ہماری سلامتی سے کھیلنا چاہتا ہے۔اس امر کا اظہارمرکز اہل حدیث راوی روڈ میں مرکزی امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو دی گئی پریس بریفنگ میں کیا۔ اجلاس میںمرکزی ناظم اعلی حافظ عبدالکریم کے علاوہ آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں سے ارکین نے شرکت کی۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ اجلاس میںپاکستان پر بڑھتے ہوئے امریکی دباﺅ پر تشویش ظاہر کی گئی اور امریکہ کی ڈومور پالیسی کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کی خاطر امریکہ کو نومور کہہ دے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ کی طرف سے نام نہاد خفیہ دستاویزات کے زریعے پاک فوج کو طالبان اور شدت پسندوں کے ساتھ ملاکر اس نے پوری فوج کی توہین کی ہے۔ اس موقع پر حکومت نے بے غیرتی کا مظاہرہ کیا اور جاندار اور قومی امنگوں کے مطابق پالیسی اختیار کرنے کی بجائے ڈو مور کے مطالبے پر لبیک کہہ رہی ہے اور انکی خارجہ وداخلہ پالیسیاں امریکی خوشنودی کے تابع بن کے رہ گئی ہیںاور پرویز مشرف کی پالیسیوں کو تسلسل بخشا جارہا ہے۔افغان ٹرانزٹ معاہدہ پر قوم کے تحفظات دور کیے جائیں۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے انسداد دہشت گردی بل اور ان کے سخت قوانین کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ اس بل کے بعد دہشت گردی کا انسداد نہیں بلکہ اسکو فروغ ملے گا۔ حکومت کو اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک فعال بنانا چاہیے اور غیر ملکی ایجنسیوں کی بجائے اپنی ایجنسیوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اگر 2013 ءتک اپنی مدت پوری کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنے آپ کوآئین کا پابند بنا نا ہوگا اور عوام کو مہنگائی ، بے روزگاری ، دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانا ہو گی ۔اجلاس میں مختلف قراردادیں منظور کی گئیں، جس میں جعلی ڈگری کے حامل ارکان کو نااہل اور سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا، گرانی ، خصوصا بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حکومت رمضان پیکچ میں مزید ریلیف دے، چینی مہنگی کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ اجلاس میں اسلام آباد میں طیارے کے حادثے سیلاب ، بارشوں اور دہشت گردی کے واقعات ، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میںقیمتی جانوں کے ضیاع پر افسو س کے علاوہ انکے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ اجلاس میں حاجی عبدالرزاق، علامہ زبیر احمد ظہیر، مولنا شریف چنگوانی، مولنا محمد اعظم، ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی، پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی، مولنا فضل الرحمان مدنی، علامہ ابراہیم طارق،علامہ محمد شفیق خاں پسروری، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، حاجی نذیر احمد انصاری، محمود مرزا جہلمی، مولنا نجیب اللہ طارق، مولانا عبدالرشید حجازی، مولانا صادق عتیق، عرفان اللہ ثنائی، مولانا عبدالرشید ہزاروی ، حافظ محمد ادریس ، قاری سیف اللہ عابد، ڈاکٹر حمود لکھوی ،حافظ بابر فاروق رحیمی،عثمان شاکر، ڈاکٹر فیض احمد بھٹی، امتیاز مجاہد، رانا نصراللہ خاں، حافظ عبدالباسط شیخوپوری، مولانا سبطین نقوی، مولنا حسن محمود کمیر پوری ، ملک زوالقرنین ڈوگر سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی